پاکستان میں امرِ بہآئی  
 
حضرت باب کے اٹھارہ حروف حئی میں ایک جناب سعید ہندی ہیں جو ملتان کے رہنے والے تھے۔ وہ بہ سلسلہ تعلیم کچھ عرصہ کےلئے عراق میں مقیم رہے جہاں وہ سیدّ کاظم رشتی کے درس میں شامل رہے۔ انہیں ان کے ممتاز شاگردوں میں شمارکیاجاتاتھا۔ دیگر حروف حئی کی مانند سعید ہندی بھی بصیرت اور باطنی کشش کی بدولت عراق سے شیراز پہنچے اور حضرت باب پر ایمان لائے تب آپ کو تعلیمات پھیلانے کےلئے برصغیر روانہ کیا گیا۔ چنانچہ سعید ہندی شیراز سے ملتان پہنچے اور لوگوں کو حضرت باب کے ظہور کی بشارت دینے لگے۔
۱۸۴۵ء
ملتان میں جناب سعید ہندی کی ملاقات ایک نابینا مگر عالم و عارف شخص بصیر ہندی (ملتانی) سے ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سید جلال بخاری کی اولاد سے تھےاور فرقہ جلالیہ سے اُن کا تعلق تھا۔ جناب سعید ہندی کے ذریعے بصیر ہندی حضرت باب پر ایمان لائے۔ اور پھر فوراً آپ کے دیدار کے لئے شیراز روانہ ہو گئے۔ شیراز پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت باب کو آذربائیجان کے پہاڑوں میں قید کر دیا گیا ہے اور اور اُن سے ملاقات آسان نہیں ہے۔ چنانچہ بصیر ہندی ملتانی جن کو قدرت نے عجیب بصیرت عطا کی تھی حضرت بہآءاللہ کے محل تولدّ طہران پہنچے اور اس شہر کی زیارت کی۔ یہاں سے آپ نے قلعہ شیخ طبر سی جا کر اصحاب قلعہ سے ملاقات کی پھر نور (مازندران) میں حضرت بہآءاللہ کے حضور مشرف ہوئے۔ اور آخرکار ایران میں ہی شہید کر دئیے گئے۔
۱۸۵۰ء کے لگ بھگ
حضرات افنان میں حاجی سیدّ مرزا مہدی بمبئی آئے اور کاروبار کرنے لگے۔ ان کی کمپنی کا نام "حاجی سیدّ مرزا محمود اینڈ کمپنی" تھا۔ کچھ برسوں کے بعد انہوں نے "مطبع ناصری" کے نام سے اپنا ذاتی پریس قائم کر لیا۔ جس میں دیگر کتب کے علاوہ بہآئی الواح و آثار مبارکہ شائع ہوتے رہے۔ حضرات افنان ایران ، ہندوستان اور ارض اقدس کے درمیان ایک رابطہ کی حثییت سے کام کرتے تھے۔ ایران سے بہآئی احباب حضرات افنان سے مل کر ارض اقدس جاتے۔ عکّا میں حضرت بہآءاللہ کے حضور مشرف ہوتے اور واپسی پر ایران و ہندوستان کے احباب کے نام الواح لےکر آتے۔ برصغیر میں بمبئی پہلا مضبوط بہآئی مرکز ہےجہاں سے امراللہ کا آوازہ ہندوستان اور موجودہ پاکستان اور برما پہنچا۔
۱۸۷۰ء کے لگ بھگ
بمبئی کے ان حضرات افنان نے حضرت بہآءاللہ کے حضور استدعا کی تھی کہ ہندوستان کے لئے کوئی مبلغ مامور فرمایا جائے۔ جس وقت یہ درخواست ساحت اقدس میں پیش ہوئی اس وقت جناب سلیمان خان تنکابنی حضور میں مُشرف تھے ۔ چنانچہ حضرت بہآءاللہ نے سلیمان خان کو "جمال الدین" اور "لمیع" کے القاب عنایت فرمائے اور برصغیر پاک و ہند اور برما میں تعلیمات پھیلانے کے لئے مامور فرمایا۔ جناب سلیمان خان جو جمال آفندی کے نام سے مشہور ہوئے اس سے پہلے کچھ مدّت تک تُرکی میں امراللہ کی تعلیمات پھیلانے کے لئے قیام کر چکے تھے۔ آپ عربی ،فارسی اور ترکی جانتے تھے۔ اُن کا عرفان عمیق، علم ٹھوس،اخلاق پسندیدہ،بیان شیریں اور رفتار متین تھی۔ وہ بڑی با رعب شخصیت کے مالک تھے۔عارف و سالک اور جہانگرد تھے۔ اُن کا چہرہ نورانی اورپرُکشش تھا۔ سفید گھنی ریش رکھتے تھے۔ اور سر پر تاج درویشانہ خوب سجتا تھا۔ آپ حکم مبارک ملتے ہی تیار ہو گئے۔ ایک بہآئی دوست میرزا حسن کی معیت میں پورٹ سعید پہنچے اور وہاں سے بذریعہ کشتی بمبئی آئے۔ جمال آفندی بمبئی اور دیگر علاقوں میں امراللہ کی تعلیمات عام کرنے لگے۔ جہاں جاتے اعیان شہر ، علماء ، صوفیا اور طبقہ امراء کو امر بہآئی کی تعلیمات سے روشناس کراتے۔ تعلیمات مبارکہ کی بدولت برصغیر میں تجدد و اصلاح کی کئی تحریکیں اُبھریں جن میں ایک آریہ سماج کی تحریک ہے۔
۱۸۷۲ء
تعلیمات مبارکہ کی بدولت برصغیر میں تجدد و اصلاح کی کئی تحریکیں اُبھریں جن میں ایک آریہ سماج کی تحریک ہے۔ آریہ سماج کے ایک جلسے میں جمال آفندی نے شرکت کی اور شرکاء کو فرداً فرداً نئی تعلیمات سے آگاہ کیا۔ آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند سر سوتی اُن لوگوںمیں سے ایک تھے جو بہآئی تعلیمات سے بہت متاثر ہوئے۔
۱۸۷۶ء
حضرت جمال آفندی نے بر صغیر کے علاوہ برما، سری لنکا،تھائی لینڈ ،سنگا پور،جاوا وغیرہ کا دورہ کیا۔ اس سفر کے دوران جنابٰ مصطفے رومی اُن کے ہمراہ تھے۔ جمال آفندی پہلی مرتبہ ۱۸۷۲ء سے ۱۸۸۴ء تک گیارہ سال سفر کر کے واپس چلے گئے۔مگر پھرحضرت بہآءاللہ نے دوبارہ جناب جمال آفندی کو مامور فرمایا اب آپ حاجی فرج اللہ تفرشی کی رفاقت میں ۲۰ مارچ ۱۸۸۸ء کو ہندوستان آئے۔ اس مرتبہ آپ نے سابقہ مبتدیوں سے ملاقات کے لئے مزید علاقوں کا سفر کیا۔ یہ سفر ڈیڑھ سال تک جاری رہا۔ آپ نے لاہور ،پونچھ،جموں ،کشمیر،تبتّ،لدّاخ ، یارقند، بد خشاں اور بلخ کا سفر کیا۔ انہوں نے لداخ کے کمشنر کے دفتر میں امراللہ کی تعلیمات پہنچائیں کی تو ایک ملازم احمد الدین بہآئی ہوا۔ یہاں سے آپ محرم ۱۸۸۹ء میں سری نگر وارد ہوئے۔ پنجاب و کشمیر اور تبّت کے سفر کے بعد آپ مدارو پہنچے اور وہاں امراللہ کی تعلیمات کو عام کرتے رہے۔
مارچ ۱۸۸۸ء
۱۹۰۰ء میں ایک امریکن بہآئی جناب سڈنی سپراک لاہور آئے اور کچھ عرصہ کےلئے تعلیمات پھیلاتے رہے۔ اسی زمانے میں امریکن بہآئی مبلغ والٹر ہو پر ھیرس ہارلین بھی ایک ماہ تک لاہور میں قیام فرما چکے تھے۔ پھر مرزا محمود زرقانی نے لاہور میں امراللہ کی خدمات سرانجام دیں۔
۱۹۰۰ء
میرزا محمود زرقانی شیراز کے نزدیک قصبہ زرقان کے رہنے والے تھے۔ آپ معروف بہآئی مبلغ میرزا حیدر علی کے ہمراہ امراللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ حضرت عبدالبہآء کے حکم مبارک کے مطابق آپ ۱۹۰۲ء میں لاہور پہنچے پھر پنجاب و سرحد کا دورہ کیا ۔ پشاور میں چند دن قیام کیا اور گجرات و پنجاب میں تقریباً چار ماہ رہائش پذیر رہے۔۱۹۰۲ء میں آپ انار کلی میں واقع دفتر ''پیسہ اخبار'' میں بھی قیام فرما رہے۔
۱۹۰۲ء
۱۹۰۴ء میں علامّہ اقبال سے میرزا محمود زرقانی کے روابط قائم ہوئے اور ۱۹۰۵ء تک قائم رہے۔
۱۹۰۴
معروف بہآئی عالم جناب میرزا محرم کے ذریعے پروفیسر شیرازی ۱۹۰۸ء میں بمبئی میں بہآئی ہوئے۔ اور پھر فارغ التحصیل ہونے کے بعد سندھ میں خدمت امر کرنے لگے۔ انہوں نے میرزا قلیچ بیگ اور گر بخشانی جیسے مشاہیر ادب سے دوستانہ روابط پیدا کئے۔ میرزا قلیچ بیگ نے "ہفت وادی" کا سندھی ترجمہ ''اسرار جو خزانو'' کے نام سے شائع کیا۔ مرحوم شیرازی ڈی جے سندھ کالج میں ۱۹۲۵ء تک فارسی کے پروفیسر رہے۔
۱۹۰۸ء
۱۹۱۳ء میں مسز سٹینارڈ نے کراچی اور سندھ کا دورہ کیا۔ اس سے پہلے سیالکوٹ کے پروفیسر پریتم سنگھ، سکھ دھرم سے بہآئی ہو چکے تھے۔ آپ علامہ اقبال کے ہم وطن تھے۔ دونوں کی دوستی آخر دم تک قائم رہی۔
۱۹۱۳ء
جناب مرزا محمود زرقانی نے برصغیر کا دوسرا سفر ۱۹۱۴ء میں کیا اور بمبئی میں قیام پذیر رہے۔ ۱۹۱۹ء میں واپس عکا چلے گئے۔
۱۹۱۴ء
جس طرح ہندوستان میں امراللہ کی اشاعت بمبئی کے مرکز کےذریعے ہوئی۔ اسی طرح کراچی وہ ساحلی شہر ہے جہاں سے امر بہآئی اندرونِ سندھ اور پاکستان کے دیگر صوبوں نیز ریاست جموں و کشمیر ، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات تک پہنچا۔ ۱۹۱۷ء میں ایک بہآئی ایران سے مہاجرت کر کے کراچی آئے۔
۱۹۱۷ء
تیسری مرتبہ جناب مرزا محمود زرقانی جناب مصطفی رومی کے ساتھ بمبئی آئے اور اس اولین بہآئی کانونشن کے انعقاد میں ہمکاری فرمائی جو محفل ملّی کے انتخاب کےلئے اواخر دسمبر ۱۹۲۰ء میں بمبئی میں منعقد ہوا۔
دسمبر۱۹۲۰ء 
۱۹۲۱ء میں فارسی مجلہّ ''البشارت'' جو جناب محمود زرقانی کی ادارت میں بمبئی سے شائع ہوتا تھا، کراچی منتقل ہو گیا اور جناب پروفیسر شیرازی کی ادارت میں چھپنے لگا۔
۱۹۲۱ء
کراچی کے اجباب نے ۱۹۲۱ء میں محفل روحانی تشکیل دی اور ملک کے دوسرے علاقو٘ں کے سفر کرنے لگے۔ کراچی کے اجباب نے ۱۹۲۱ء میں محفل روحانی تشکیل دی اور ملک کے دوسرے علاقو٘ں کے سفر کرنے لگے۔
۱۹۲۱ء
جناب مرزا محمود زرقانی چوتھی مرتبہ ۱۹۲۳ء میں ہندوستان آئَے، اس سفر کے دوران حیدرآباد دکّن میں معروف قادیانی مبلغ سیّد محفوظ الحق علمی کی ان سے ملاقات ہوئی اور آپ کے امراللہ کو متعارف کرانے کے بعد جناب علمی بہآئی ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد آپ ایران چلے گئے اور ۱۹۲۷ء میں ان کی رشت میں وفات واقع ہو گئی۔
۱۹۲۳ء
امراللہ کی تعلیمات زبانی عام کرنے کے ساتھ پاکستان کے یہ مٹھی بھر بہآئی احباب لٹریچر کی طباعت کی ضرورت سےغافل نہ تھے چنانچہ "بہآئی پبلشنگ کمیٹی" کے نام سے کراچی میں ایک ادارہ ۱۹۳۰ء میں قائم کیا جو اب بہآئی پبلشنگ ٹرسٹ (رجسٹرڈ) ہے۔ اس ٹرسٹ کی طرف سے درجنوں بہآئی کتابیں اردو، فارسی، انگریزی میں اور کچھ کتابیں اورپمفلٹ سندھی، پشتو، بلوچی، گوجری اور بلتی میں شائع ہوئیں۔
۱۹۳۰ء
یکم جنوری ۱۹۳۱ء کو لاہور سے پروفیسر پریتم سنگھ کی ادارت میں انگریزی ہفت روزہ ''دی بہآئی''شائع ہونا شروع ہوا جو ۱۹۳۳ء تک چھپتا رہا۔ جناب پروفیسر نے ایک لائبریری بھی قائم کر رکھی تھی جہاں سے کتابیں جاری کی جاتی تھی ،علاوہ ازیں آپ نے بہآئی سٹڈی سرکل بنا رکھا تھا۔اور ایک ادارہ ''یونٹی لیگ''کے نام سے بھی قائم تھا۔ اس طرح لاہور ، پنجاب میں بہآئی فعالیتوں کا سب سے بڑا مرکز بن گیا تھا۔
جنوری ۱۹۳۱ء
۱۹۳۲ء تک اردو میں مندرجہ ذیل بہآئی کتابیں شائع ہو چکی تھیں جو زیادہ تر ترجمہ ہیں۔''لوح ابن ذئب، ہفت وادی، دور بہآئی، کتاب آفتاب ظہور، شش الواح، کلمات مکنونہ، باب الحیات، المعیار الصحیح ،وغیرہ۔
۱۹۳۲ء
۱۹۳۶ء میں کشمیر کے ممتاز عالم اور سیاستدان جناب مولوی محمد عبداللہ وکیل بہآئی ہوئے اور ۱۹۴۶ء میں وہاں محفل قائم ہوئی۔
۱۹۳۶ء
کراچی میں ہندو برماکے بہآئیوں کا نوّاں اور دسواں کانونشن ۱۹۳۷ء اور ۱۹۳۸ء میں ہوا۔ اس میں امریکن خاتون محترمہ مارتھاروٹ تشریف لائیں۔ آپ نے یہاں تین ماہ تک قیام کیا۔اور قرۃ العین طاہرہ پر اپنی تحقیقی کتاب ''طاہرہ دی پیور ''شائع کی۔ انہوں نے پنجاب، جموں اور کشمیر کا سفر بھی کیا۔
کتاب ''بہآءاللہ و عصر جدید'' کا اردو اور گجراتی ترجمہ ۱۹۳۷ء میں شائع ہوا
۱۹۳۷ء
مبلغین کی کوششوں سے جموں میں امراللہ کا اعلان عام ہوا۔ ۱۹۴۶ء میں اس شہر کے ایک روشن ضمیر جوان سیدّ کرامت علی شاہ (خیاط) ظل امراللہ داخل ہوئےپھر چند اور حضرات کے بہآئی ہونے پر اسی سال جموں کی پہلی محفل روحانی قائم ہوئی۔
۱۹۴۶ء
قیام پاکستان کے بعد متعدد بہآئی خاندان ہندوستان سے چلے آئے تھے۔اس طرح نئے مراکزِ امری اور محافل میں اضافہ ہوا۔ ایرانی مہاجرین مقامی احباب اور ہندوستان سے آئے ہوئےدوستوں کی مثلث نے امراللہ کی پیش رفت میں نمایاں اضافہ کر دیا۔ بہآئی مجلہّ "بشارت" کراچی میں علامہ محفوظ الحق علمی کی زیر ادارت چھپنا شروع ہوا۔ پھر یہ مجلہّ "بہآئی میگزین" کے نام سے لاہور اور پھر دوبارہ کراچی سے شائع ہوتا رہا۔موجودہ ماہنامہ "نفحات" اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
۱۹۴۷ء
پشاور میں امراللہ کی تعلیمات کو عام کرنے کا کام میرزا محمود زرقانی اور بعد میں مارتھاروٹ نے شروع کیا۔ جناب مولوی عبداللہ وکیل ' جناب اسفندیار بختیاری اور مولوی فضل دین کی کوششوں سے محفل ۱۹۴۷ء میں قائم ہوئی۔
۱۹۴۷ء
بانی پاکستان قائد اعظم حضرت محمد علی جناح نے اپنے خطابات میں بار بار وعدہ کیا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتیں عبادات رسم و رواج اور عقائد کی تبلیغ وغیرہ میں آزاد ہوں گی۔ ان کے حقوق اکثریت کے برابر ہوں گے۔ ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کا ہر قیمت پر تخفظ کیا جائے گا۔ یہ اسلامی ریاست کا فرض ہو گا کہ وہ ان کی خوشحالی کو یقینی بنائے اور ان کی سلامتی کی ضمانت دے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی حکومتیں قائداعظم کے ارشادات کی روشنی میں اپنی مذہبی اقلیتوں وغیرہ کا پوری طرح خیال رکھتی رہی ہیں، پاکستان اپنی اس شاندار پالیسی اور روایت پر جس قدر فخر کرے کم ہے، پاکستان کی اقلیتیں بھی ہر امتیازسے بالاتر ہو کر ملک کی ترقی اور ملّت کی خوشحالی کے لئے کام کرتی رہی ہیں اور کر رہی ہیں۔ محبت و ہم آہنگی کی سطح پر یہاں عملاً اقلیت و اکثریت میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
آج